کھانا کس کے لیے تھا؟ پیٹ کے لیے یا کپڑوں کے لیے؟
ملا نصیر الدین ایک امیر آدمی کی دعوت میں پرانے کپڑے پہن کر گئے۔ وہاں کسی نے ان کی طرف توجہ نہیں دی اور نہ کھانا پیش کیا۔
ملا گھر گئے، قیمتی لباس پہنا اور واپس آئے۔ اب سب لوگ جھک کر سلام کرنے لگے اور انہیں بہترین کھانا پیش کیا۔
ملا نے کھانا منہ میں ڈالنے کے بجائے اپنی شیروانی پر ملنا شروع کر دیا اور بولے: "کھاؤ شیروانی! کھاؤ!" سب حیران رہ گئے۔
ملا بولے: "یہ عزت میری نہیں، ان کپڑوں کی ہے، اس لیے کھانا بھی انہی کا حق ہے!"